اولاد میں ہدایا کی غیر منصفانہ تقسیم
سوال:- ایک شخص نے اپنے دو بیٹوں کو دوکان کھولنے کے لئے اس طرح سے رقم دی کہ ایک بیٹے کو ایک کروڑ روپے دئیے اور دوسرے کو دس لاکھ روپے۔ کچھ عرصے کے بعد پہلے بیٹے کو ایک زمین بھی دے دی جبکہ دوسرے کو کچھ بھی نہیں دیا، اب دوسرے بیٹے نے دوکان کے منافع سے ایک گھر بنایا تو ان کو کہا گیا کہ اس گھر میں سب شریک ہیں کیوں کہ دوکان کے لئے پیسے دیتے وقت کہا گیا تھا کہ اس میں سب شریک ہوں گے۔ والد اور ان کے تین بیٹے، جبکہ پہلے بیٹے نے بھی دوکان کے منافع سے گھر بنایا تو کہا اس میں کوئی شریک نہیں ہو گا کیوں کہ اس نے دوکان سے پیسے نکالے ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:- والدین کےلئے یہ ضروری ہے کہ اپنے بچوں کو ھدیہ دینے میں مساوات سے کام لے اگر والد نے اپنے بچوں میں امتیازی سلوک کیا ہے تو انہوں نے اپنے ان بچوں کے ساتھ زیادتی کی ہے جن کو انہوں نے محروم کردیا جس کےلئے وہ اللہ تعالی کے ہاں جوابدہ ہوں گے، کیوں کہ شریعت مطہرہ میں والدین کو اس بات سے سختی سے روکا گیا کہ وہ اپنی ساری نوازشات اپنے ایک بیٹے یا ایک بیٹی پر کرے، لہذا اپنی زندگی میں اگر کوئی اپنے بچوں کو ھدیہ دے تو ضروری ہے کہ ساری اولاد میں انصاف سے کام لے۔