فَسـئَلُوا اَهلَ الذِّكرِ اِن كُنتُم لَا تَعلَمُونَ‏

So, ask the people (having the knowledge) of the Reminder (the earlier Scriptures), if you do not know.

Share

معاملات تحفہ
بچوں کو دیئے جانے والے تحائف اور رقوم کا حکم
سوال:- سوال ہے مثلاً کوئی مہمان یا پھر کوئی بھی بچوں کو پیسے دیجاتے ہیں یا جیسے بچہ پیدا ہوتا ہے تو عزیز و اقارب آتے ہیں اور پیسے وغیرہ دے جاتے ہیں یا اور کچھ مثلاً کپڑے وغیرہ یا کھلونے وغیرہ بھی دیجاتے ہیں، تو اسمیں کیا حکم ہے کیا والدین یا بہن بھائی وغیرہ اس بچے کے وہ پیسے یا کوئی کپڑے کھلونے وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟
جواب:- بچوں کو ان کے بچپن میں جو تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اس میں عرف ورواج کا اعتبار ہوگا، اگر عرف یہ ہے کہ یہ تحفے تحائف ماں باپ کو دینا مقصودہوتے ہیں ،صرف ظاہراً بچوں کے ہاتھ میں دیے جاتے ہوں جیسا کہ عام طورپر عقیقہ وغیرہ کی تقریب میں ہوتا ہے تو ان چیزوں کے مالک والدین ہی ہوں گے، وہ اس میں جو چاہیں تصرف کرسکیں گے، پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ چیزیں والدہ کے رشتہ داروں نے دی ہوں تو والدہ ان کی مالک ہوگی، اور اگروالد کے رشتہ داروں نے دی ہوں تو اس کا مالک والد ہوگا، اگر عرف یہ ہے کہ اس طرح کی تقریبات میں وہ چیزیں بچے ہی کو دی جاتی ہیں تو پھر ان کا مالک بچہ ہی ہوگا، اور اگر کسی موقع پر ہدیہ دینے والے صراحت کردیں کہ یہ بچہ کے لیے یا اس کی والدہ یا والد کے لیے ہے تو جس کی صراحت کریں گے وہی اس کا مالک ہوگا۔
Ask Hidayah

Ask Hidayah

Islamic Essentials

Islamic Essentials

Research Center

Research Center

Ask Hidayah

AskHidayah is a Project of Hidayah Academy, Pakistan, being managed under the supervision of Hazrat Moulana Shaykh Muhammad Azhar Iqbal DB.

R-18 Khayab-e-Rizwan Phase 7 Ext, DHA Karachi, Pakistan +92 345 6277560 [email protected]

Never Miss a Moment of Guidance

Join our mailing list to receive uplifting answers, updates, and articles that enrich your faith and understanding.

Find Us Online