بچوں کو دیئے جانے والے تحائف اور رقوم کا حکم
سوال:- سوال ہے مثلاً کوئی مہمان یا پھر کوئی بھی بچوں کو پیسے دیجاتے ہیں یا جیسے بچہ پیدا ہوتا ہے تو عزیز و اقارب آتے ہیں اور پیسے وغیرہ دے جاتے ہیں یا اور کچھ مثلاً کپڑے وغیرہ یا کھلونے وغیرہ بھی دیجاتے ہیں، تو اسمیں کیا حکم ہے کیا والدین یا بہن بھائی وغیرہ اس بچے کے وہ پیسے یا کوئی کپڑے کھلونے وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟
جواب:- بچوں کو ان کے بچپن میں جو تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اس میں عرف ورواج کا اعتبار ہوگا، اگر عرف یہ ہے کہ یہ تحفے تحائف ماں باپ کو دینا مقصودہوتے ہیں ،صرف ظاہراً بچوں کے ہاتھ میں دیے جاتے ہوں جیسا کہ عام طورپر عقیقہ وغیرہ کی تقریب میں ہوتا ہے تو ان چیزوں کے مالک والدین ہی ہوں گے، وہ اس میں جو چاہیں تصرف کرسکیں گے، پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ چیزیں والدہ کے رشتہ داروں نے دی ہوں تو والدہ ان کی مالک ہوگی، اور اگروالد کے رشتہ داروں نے دی ہوں تو اس کا مالک والد ہوگا، اگر عرف یہ ہے کہ اس طرح کی تقریبات میں وہ چیزیں بچے ہی کو دی جاتی ہیں تو پھر ان کا مالک بچہ ہی ہوگا، اور اگر کسی موقع پر ہدیہ دینے والے صراحت کردیں کہ یہ بچہ کے لیے یا اس کی والدہ یا والد کے لیے ہے تو جس کی صراحت کریں گے وہی اس کا مالک ہوگا۔