مسجد میں ایک وقت میں ہوتی ہے متعدید اذانوں کا جواب دینے کا حکم
سوال:- حضرت صاحب پوچھنا یہ ہے کہ جب ایک ہی محلے کی بہت ساری مساجد میں اکٹھی اذانیں ہو رہی ہوں جیسا کہ عموما ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی اذانیں اکٹھی ہوتی ہیں ایک ہی وقت میں تو اس صورت میں ہمیں کس اذان کا جواب دینا چاہیے اس لیے کہ سب اذانوں کا جواب دینا مشکل ہوتا ہےرہنمائی فرمائیں؟ شکریہ
جواب:- پہلی اذان کا جواب دینا چاہیے بقیہ دوسری اذانوں کا جواب دینا افضل ہے۔
حوالہ جات:- (مراقي الفلاح ص ۳۹ باب الأذان) وإذا تعدد الأذان یجیب الأول"". مطلقاً سواء کان أذان مسجده أم لا؛ لأنه حیث سمع الأذان ندبت له الإجابة، ثم لایتکرر علیه في الأصح۔۔ فتاوی رحیمیہ میں ہے: پہلی اذان کا جواب دینا ضروری ہے باقی اذانوں کا جواب دینا افضل ہے محلے کی مسجد کی اذان ہو یا غیر محلے کی ہو۔"