مقتدی کا جماعت کی نماز میں سجدہ سہو کرنا
سوال:- ہم مسجد میں عصر کی نماز با جماعت ادا کر رہے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی بھی ہمارے ساتھ کھڑے تھے اور ہم نے امام صاحب کے ساتھ ہی نماز شروع کی تھی امام صاحب نے جب پہلا سلام پھیرا تو ہمارے ساتھی نے بھی سلام پھیرا اور جب امام صاحب نے دوسرا پھیرا تو ہمارے ساتھی نے سجدہ سہو کیا ۔دو سجدے کرنے کے بعد اتحیات پڑھی اور پھر درود شریف اور دعا کے بعد نماز ختم کی، نماز کے بعد میں نے ان سے اسکی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے دوسری رکعت میں اتحیات کے بعد درود شریف پڑھ لیا تھا جس کی وجہ سے مجھے لگا کہ سجدہ سہو کرنا چاہیے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان کی نماز ادا ہو گی یا نہیں رہنمائی فرمائیں۔
جواب:- صورت مذکورہ میں نماز ہوگئی ہے اسکی اعادہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس شخص نے باقی تمام ارکان امام کے ساتھ ادا کرلیے ہیں صرف سلام میں مخالفت کی ہے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر چہ مکروہ ہے۔