فَسـئَلُوا اَهلَ الذِّكرِ اِن كُنتُم لَا تَعلَمُونَ‏

So, ask the people (having the knowledge) of the Reminder (the earlier Scriptures), if you do not know.

Share

معاملات سود
سودی قرضے سے کاروبار کرنا
سوال:- ایک شخص بینک سے سودی قرضہ لے کر حلال کاروبار کرتا ہے، کیا اس کاروبار سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہوگا؟ کیا ایسے شخص کے گھر کھانا کھا سکتے ہیں؟
جواب:- مذکورہ مسئلے میں حکم یہ ہے کہ سود ی معاملہ خواہ وہ قرضہ لینے کی صورت میں ہو یا قرضہ دینے کی صورت میں ہو ، کسی صورت بھی درست اور جائز نہیں ہے ، کیونکہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں سودی معاملہ کرنے والوں پر بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،اس لئے سودی معاملات سے بہر صورت بچنا لازمی ہے ، البتہ اگر کسی شخص نے سودی قرضہ لے کر اس رقم سے جائز اور حلال کاروبار کیا ہے تو ایسی صورت میں ایسے شخص کی حلال کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز ہوگی ، اور اسیے شخص کے گھر کھانا کھانے کی گنجائش ہے ، البتہ سود پر قرض لینے کا گناہ اس شخص کے ذمہ بہر حال رہے گا۔
Ask Hidayah

Ask Hidayah

Islamic Essentials

Islamic Essentials

Research Center

Research Center

Ask Hidayah

AskHidayah is a Project of Hidayah Academy, Pakistan, being managed under the supervision of Hazrat Moulana Shaykh Muhammad Azhar Iqbal DB.

R-18 Khayab-e-Rizwan Phase 7 Ext, DHA Karachi, Pakistan +92 345 6277560 [email protected]

Never Miss a Moment of Guidance

Join our mailing list to receive uplifting answers, updates, and articles that enrich your faith and understanding.

Find Us Online