سودی قرضے سے کاروبار کرنا
سوال:- ایک شخص بینک سے سودی قرضہ لے کر حلال کاروبار کرتا ہے، کیا اس کاروبار سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہوگا؟ کیا ایسے شخص کے گھر کھانا کھا سکتے ہیں؟
جواب:- مذکورہ مسئلے میں حکم یہ ہے کہ سود ی معاملہ خواہ وہ قرضہ لینے کی صورت میں ہو یا قرضہ دینے کی صورت میں ہو ، کسی صورت بھی درست اور جائز نہیں ہے ، کیونکہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں سودی معاملہ کرنے والوں پر بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،اس لئے سودی معاملات سے بہر صورت بچنا لازمی ہے ، البتہ اگر کسی شخص نے سودی قرضہ لے کر اس رقم سے جائز اور حلال کاروبار کیا ہے تو ایسی صورت میں ایسے شخص کی حلال کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز ہوگی ، اور اسیے شخص کے گھر کھانا کھانے کی گنجائش ہے ، البتہ سود پر قرض لینے کا گناہ اس شخص کے ذمہ بہر حال رہے گا۔