معاملات کاروبار اور مالیات
حرام آمدنی سے حلال کاروبار کرنا
سوال:- میں نے ایک کاروبار شروع کیا ہے اس میں انویسٹمنٹ میرے ایک دوست نے کی ہے، انویسٹمنٹ ساری اس کی طرف سے ہے اور سارا کام میں کرتا ہوں۔ میرے دوست کے پاس دو ذریعہ آمدنی ہے ایک میں وہ لوگوں کو دھوکا دے کر کماتا ہے تو وہ تو ظاہر ہے کہ حرام ہے۔ فرض کر لیتے ہیں کہ انویسٹمنٹ جو اس نے کی ہے وہ حرام ذریعہ آمدنی سے کی ہے، تو کیا میرا کاروبار حرام یا مکروہ ہے؟ کیا مجھے وہ بند کرنا ضروری ہے؟
جواب:- اگر آپ کے دوست کی آمدنی کا دوسرا ذریعہ بھی حرام ہے تو آپ کو اپنا کاروبار بند کرنا ہوگا کیونکہ تمام سرمایہ کاری حرام ہے۔ لیکن اگر آمدنی کا دوسرا ذریعہ حلال ہے اور دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم الگ الگ نا ہو جیسا کہ ایک ہی بینک اکاؤنٹ میں رکھا گیا ہے ، تو آپ اپنا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں کیونکہ سرمایہ کاری حلال ذریعہ سے سمجھی جائے گی۔ لیکن اگر دونوں ذرائع سے پیسے الگ الگ رکھے جاتے ہیں اور سرمایہ کاری کے وقت آپ کا دوست خاص طور پر ذکر کرتا ہے کہ وہ حرام آمدنی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور درحقیقت اس سے سرمایہ کاری کرتا بھی ہے ، تو آپ کو اپنے کاروبار کو روکنا چاہیے کیونکہ یہ حرام ذریعہ سے فنڈ کیا جا رہا ہے۔