نماز کے لیے گھر والوں کو کتنی مرتبہ اٹھانا چاہیے؟
سوال:- میرا سوال یہ ہے کہ نماز کے لیے کوئی شخص اپنے والد صاحب یا اپنے گھر والوں کو نماز کے لیے کتنی مرتبہ اٹھا سکتا ہے؟ یعنی ایک، دو یا تین مرتبہ؟
جواب:- واضح رہے کہ امر بالمعروف اور نماز وغیرہ احکامِ شرعیہ کی تبلیغ بہت اچھی چیز ہے، لیکن جہاں تک ہو سکے نرمی اور شفقت سے تبلیغ کرنی چاہیے۔ ایسا کوئی کلمہ یا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے سننے والے کو اشتعال ہو اور وہ سختی پر آمادہ ہو جائے، کیونکہ کلامی تیزی یا سختی سے متعلق بعض اوقات دوسرا نمازی نماز سے بھی متنفر ہو سکتا ہے۔
لہٰذا والدین اور گھر والوں کو نماز کے لیے نرمی، محبت اور حکمت کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔ اپنی اولاد وغیرہ کے معاملے میں مناسب طریقے سے ان کو نماز کی ترغیب دینے کی اجازت ہے، لیکن سخت کلامی اور بے ادبی سے بچنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ"
ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کیجیے جو سب سے بہتر ہو۔
احادیث میں بھی بچوں کو نماز کی ترغیب دینے کی تاکید آئی ہے۔ سنن ابی داؤد میں حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر تادیبی طور پر سختی کی جا سکتی ہے، اور ان کے بستروں کو جدا کر دو۔
البتہ تادیب میں بھی ایسی مار سے بچنا ضروری ہے جو فاحش یا نقصان دہ ہو، یعنی جس سے ہڈی ٹوٹ جائے، جلد پھٹ جائے یا جسم پر شدید نشان پڑ جائے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات:- کتاب: مواعظ الغلام، 1/71، دارالحدیث ملتان
سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلوٰۃ
سورۃ النحل، آیت 125
فتاویٰ شامی، کتاب الحدود، باب التعزیر، 4/79، سعید
میں سورۃ النحل آیت 125 اور سنن ابی داؤد کی روایت کا حوالہ موجود ہے، جبکہ آخر میں فتاویٰ شامی کا حوالہ بھی درج ہے۔